5 مئی 2011 - 19:30

کسی نے صحیح کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی خبر نشر کرکے امریکی صدر باراک اوبامہ اپنی انتخابی مہم پاکستان سے چلانا چاہتے ہيں۔

ابنا: اس سے پہلے بھی امریکہ کے گذشتہ دو صدارتی انتخابات کی مہم بھی پاکستان میں ہی چلائی گئی تھی ۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب القاعدہ کے سرغنہ اسامہ بن لادن کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں مار ڈالنے کی خبر امریکی صدر اور پھر مغربی ذرائع ابلاغ کی طرف سے بہت تیزی کے ساتھ دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی گئی اس تشہیراتی مہم میں امریکی حکام اور مغربی ذرائع ابلاغ نے اس بات کا بھی خیال نہ رکھا کہ انہوں نے پہلے کیاکہا تھا، اب کیا کہہ رہے ہيں اور آئندہ انہیں کیا کہنا ہے ۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ جب پاکستانی قوم سورہی تھی اس وقت امریکی فوجی کاکول ملیٹری اکیڈمی کے قریب ایبٹ آباد میں ایک گھر میں آپریشن میں مصروف تھے ۔ اور اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کی خبر پاکستان سے نہيں بلکہ امریکہ سے دی گئی ۔ جس طرح گیارہ ستمبر کے واقعات کے بارے میں ابھی تک شکوک وشبہات پائے جارہے ہیں کہ کیسے اتنی بلند وبالا عمارت طیاروں کے ٹکرانے سے زمین بوس ہوسکتی ہے اور کیوں ان حملہ آور طیاروں کی نشاندہی نہ کئی گئی اور ان کا راستہ نہيں روکا گیا اسی طرح امریکہ کا یہ دعوی اگر مان لیا جائے کہ اس نے براہ راست کاروائي کی اور پاکستان کی حکومت اور فوج کو اس سلسلے میں کوئي اطلاع نہيں دی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہیلی کاپٹروں کا ملیٹری اکیڈمی کے قریب تک پہنچ جانا ، پھر کاروائی کرنا اور پاکستانی فوج کا کوئی ردعمل سامنا نہ آنا کیسے ممکن ہے ؟ یہ ساری باتیں بہت سے سوالوں کو جنم دیتی ہيں ۔ علاوہ ازیں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجود گی کے بارے میں بھی بہت سی متضاد باتيں سامنے آرہی ہيں کہ وہ کب سے اس علاقے میں روپوش تھا ؟ اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے بارے میں بھی امریکی حکام کی طرف سے الگ الگ بیانات سامنےآرہے ہیں کوئی کہتا ہے کہ اسامہ اسلحہ سے لیس تھا، کوئی کہتا ہے کہ وہ نہتا تھا، کوئي کہتا ہے کہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا کسی کا یہ بیان کہ اسے گرفتار کرکے گولی ماری گئی، کہیں سے یہ بیان سامنے آرہا ہے کہ اس آپریشن میں اس کی بیوی اور تین بچے بھی مارے گئے ہيں جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے گھر والے اس کاروائی میں محفوظ ہيں ۔اس سے بھی بڑھ کر اسامہ کی ہلاکت کے بارے میں بھی جوسب سے بڑا ابہام پایا جاتا ہے وہ یہ کہ کیا جو تصویر اسامہ بن لادن کی ذرائع ابلاغ میں دکھائي جارہی ہے وہی بن لادن ہے ؟ جبکہ بہت سے ذرائع ابلاغ نے اپنے آرکائیو کی وہ تصویریں نشر کردی ہيں جو چند ماہ قبل عراق میں مارے جانے والے ایک شخص کی تصویر تھیں جو اسامہ سے کافی شباہت رکھتا تھا ۔ ایبٹ آباد میں جس مکان پر حملہ کیا گیا وہاں کے آس پاس رہنے والوں اور اہل محلہ کا کہنا ہے کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ اسامہ اس مکان میں دس مہینوں سے تھا تو کم از کم ہم لوگوں کو اس کا شائبہ بھی نہيں ہوا کہ اسامہ یہاں روپوش ہے ان محلے والوں کا کہنا ہے کہ یہاں اسامہ کے روپوش ہونے کا کوئی امکان نہيں ہے ۔ عالمی ماہرین کا مطالبہ ہے کہ اگر امریکی حکام اسامہ کو مار دینے کے اپنے دعوے میں سچے ہیں تو انہیں اس سلسلے میں ثبوت عام کرنے چاہئيں ۔ اس سے بھی بڑھ کر پاکستان کے اندر امریکی فوج نے جس طرح سے کاروائي کی ہے اس پر خود پاکستان کے اندر ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے ۔ پہلے تو امریکہ کے صدر نے پاکستان کے تعاون کا اعتراف کرتے ہوئے اس کاروائی میں تعاون کرنے پر پاکستان کی تعریف اور شکریہ بھی ادا کیا مگر اب امریکی حکام کا کہناہے کہ ہم نے اس کاروائی کے تعلق سے پاکستان کو کانو کان بھنک بھی نہيں لگنے دی۔ جبکہ پاکستان نے امریکی حکام کے اس بیان پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکیوں کو اس طرح کا بیان نہیں دینا چاہئے ۔امریکہ پاکستان کے تعاون کے بغیر اسامہ کے خلاف کاروائی نہيں کرسکتا تھا ۔اگر چہ پاکستان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت مسلم ليگ نون سمیت مختلف جماعتوں، شخصیتوں اور حتی خود آئی ایس آئی نے امریکیوں کی اس کاروائي کو پاکستان کی قومی خودمختاری کے منافی اور شرمندگی کا باعث قراردیا ہے ۔ بہرحال اب جبکہ امریکی حکام یہ کہہ رہے ہيں کہ ہم نے پاکستانی حکام کو اسامہ کے خلاف کاروائي کی خبر تک نہيں دی پاکستان میں اس بات پر کافی برہمی پائی جارہی ہے اگر چہ امریکہ کی مان مانیوں پر پوری قوم پہلے ہی امریکہ سے شدید نفرت کرتی ہے پاکستان کی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کو آئندہ اس طرح کی کاروائیوں کے بارے میں عالمی قوانین کو مد نظر رکھنا ہوگا بصورت دیگر دوطرفہ تعلقات متاثر ہوسکتے ہيں لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پورے ڈرامے کو اس لئے رچایا گیا ہے کہ باراک اوبامہ اس بار بھی اپنی انتخابی مہم پاکستان میں ہی چلانا چاہتے ہيں امریکیوں کے لئے اسامہ اس وقت کم ازکم اتنا ہی اہمیت کا حامل ہے جتنا وہ اپنی زندگی میں تھا اسے کہتے ہيں صحیح اور سچا اتحادی، جب تک زندہ رہا امریکہ کو فائدہ پہنچاتا رہا اور اب مرنے کے بعدبھی امریکہ کو ہی فائدہ پہنچ رہا ہے ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اب امریکیوں کے پاس ایک سے زائد بار اسامہ کو استعمال کرنے کا موقع نہیں رہے گا اسی لئے امریکہ میں جنگ مخالف گروہوں کی طرف سے یہ مطالبات شروع ہوگئے ہيں کہ امریکہ اپنی فوج افغانستان سے واپس بلائے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110